چناب کالج چنیوٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

چناب کالج چنیوٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

چناب کالج چنیوٹ میں محفل میلاد مصطفی ﷺکا انعقاد ہوا ۔ ڈی پی او چنیوٹ کیپٹن (ر) مستنصر فیروز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ڈی پی او نے محفل میلاد میں خطاب کر تے ہوئے کہا کہ جہاں ہم نبی پاک ﷺ کی مداح سرائی کر رہے ہیں وہاں ہم پر یہ لازم ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عملدرآمد کرکے ہم خود ایک اچھے انسان بنے اور اس معاشرے کو اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر بنائیں ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک نبی پاک کا امتی ہو اور جھوٹا ہو ، امتی ہو اور دھوکے باز ہو ، امتی ہو اور اپنے ساتھ والے مسلمان بھائی کو کافر کہے۔ یہ کیسی قوم ہے جو امتی ہونے کا دعویٰ بھی کرے اور بچیوں کی پیدائش پر غمزدہ ہو ،یہ ممکن نہیں ہے۔ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی دن جو اسلامی تعلیمات کا سبق دیتا ہے اس کی روح کو سمجھیں ۔ جس دن اس قوم نے اور ہم سب نے اس دین کی اور نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کی روح کو سمجھ لیا تو اس دن اس امت کو اس ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Comments

comments

Leave a Reply

5 thoughts on “چناب کالج چنیوٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

  1. پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ھے کہ رسول کی محبت کے دعوے بڑے ھیں رسول کی محبت میں مرنے اور مارنے کو ھر دم تیار لیکن رسول کے فرمودات رسول کے اسوہ سے مکمل کنارہ کشی یہ وہ تضاد ھے جس کی وجہ سے وھاں امن نہی ھے اللہ کرے ھماری قوم صرف الفاظ تک نہ رھے بلکہ محبت رسول کا عملی نمونہ بنے اور پھر دیکھے کیسے روٹھا ھوا امن واپس آتا ھے۔
    Reply
  2. اگر یہ سرکاری مسلمان ان باتوں پر عمل کریں تو پاکستان میں امن قائم ھو سکتا ھے جس کا اس وقت فقدان ھے کیونکہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنے کی بجائے لوگ مولوی کے پیچھے چلتے ہیں جو خود اسلام کی خوبصورت تعلیم سے بہت دور ھے اور قوم کو بھی جہالت کی طرف کھینچ رھا ھے.
    Reply
  3. Yes thought and practical is two difrent issue this is practically faliar nation in my point of knoladge 53 Islamic cuntry in worlad but all is faild in practical life no think tanker no researcher university no one uni Betsy have own practical educational thought all is copier that’s a falier of basic Islamic think tanker are suplying own education but not practical perfect just short cuts teaching no productive way deveolping national ire Islamic thought that’s what i found so for in my life 50 year experiance of life jzakallah

    Reply
    1. اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
      جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پر دیس میں وہ آج غریب الغربا ہے
      جس دین کے مدعو تھے کبھی سیزر و کسریٰ خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے
      وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے
      جو دین کو تھا شرک سے عالم کا نگہباں اب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے
      لجو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے اس دین میں جو تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
      جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے
      جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے
      جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر غنا بھی اس دین میں اب فقرے ہے باقی نہ غنا ہے
      ~ مولانا حالی
      اسی لئے خدا نے اس زمانے میں اسلام کی نشاط ثانیہ کے لئے امام مہدی کو بھیجا ہے ۔ اس کو قبول کرو اور اس کی بیعت کر کرو