اسلام کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

آپ نے اکثر کتابوں پر لکھا دیکھا ہوگا کہ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اسی طرح بہت سی مصنوعات پر بھی اسی ٹریڈ مارک کا نشان دیکھا ہوگا۔ اسی طرح مختلف کمپنیوں کے نام کے ساتھ رجسٹرڈ کا لفظ بھی دیکھا ہوگا۔ گو کہ ان تمام معاملات کے پیچھے بنیادی اصول مشترک ہیں مگر انکی نوعیت کےلحاظ سے انکی تقسیم مختلف ہوجاتی ہے اور اسی طرح ان سے متعلقہ قوانین بھی۔ ان سب قوانین کا بنیادی موضوع ،ایک فرد یا ادارے کی ملکیت میں وہ حقوق جنہیں قانون کی اصطلاح میں intellectual property کہا جاتا ہے، سے جڑےمعاشی مفادات کا تحفظ ہے۔

Intellectual Property کیا ہے اور کیا نہیں؟ یہ کوئی چھونے کی چیز نہیں ہے نہ ہی کوئی زمین مکان ہے جسکی طرف آپ کا ذہن جائیداد کا نام سن کرجائے۔ یہ وہ حقوق ملکیت ہیں جو کسی شخص یا اشخاص کے گروہ کی انفرادی یا مشترکہ تخلیق ، ایجاد یا خدمات پر مشتمل علیحدہ پہچان ہوسکتی ہے ۔ ایسی پہچان کو قانونی تحفظ ان قوانین کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ جسکا مقصد اس شخص یا ادارے کے معاشی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ تاکہ اسکے نام اور پہچان کو استعمال کرکے کوئی دوسرا ان معاشی فوائد سے استفادہ نہ کرسکے جو اول الذکر کا حق بلا شرکت غیرے قرار دیے گئے ہیں۔ کیونکہ اس قسم کے دنیاوی معاملات میں افراد یا ادارے اپنی تخلیقات و مصنوعات کی پیداوار میں مقابلہ بازی میں آکر بہترین مصنوعات ، خدمات یا اپنی خداداد صلاحتیوں کی بناء پر فنون لطیفہ عوام کے استفادے کےلئے لے کر آتے ہیں۔ اور جو اس مقابلے میں اپنی صلاحیت ، محنت اور تجربے سے متعلقہ شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرلے اسکا حق ہوتا ہے کہ اپنی پہچان کو محفوظ کروائے تاکہ اسکے معاشی مفادات کا تحفظ ہوسکے۔ وگرنہ بعض اوقات ایسے افراد انسانیت کی بھلائی کے معاملات میں اپنی بعض ایجادات فی سبیل اللہ انسانیت کے فائدے کےلئے وقف بھی کردیتے ہیں۔

ان تمام قوانین کے کچھ بنیادی لوازمات ہیں جن کے بغیر ان قوانین کی روح کو سمجھنا ممکن نہ ہوگا۔

اول یہ کہ یہ جملہ حقوق محفوظ کروانے کےلئے ضروری ہے کہ شے کے خالق آپ خود ہوں خواہ انفرادی طور پر یا ادارے کے طور پر۔

دوم یہ شے آپ کی ملکیت قرار دی جاسکے۔ اس انداز میں کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہ ہو۔

سوم یہ کہ آپ کے اس سے جائزمعاشی مفادات جڑے ہوں۔

وہ کون سے امور ہیں جو ان قوانین کی زد میں آسکتے ہیں۔ اس لحاظ سے کسی بھی فرد کا تخلیقی کام جو ادبی بھی ہوسکتا ہے اور فنون لطیفہ کے دیگر میدان مثلاً آرٹ وغیرہ ۔ جبکہ دیگر معاملات میں مختلف ایجادیں، مصنوعات، مشینری وغیرہ ۔ تاہم یہ طے ہے کہ آپ کسی اور کی تخلیق اپنے نام سے پیٹنٹ نہیں کروا سکتے۔ اگر کروائیں گے تو جرم ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں آپ اسی شے پر اپنے جملہ حقوق محفوظ کرواسکتے ہیں جو آپ نے خودبنائی ہو، ایجاد کی ہو، تحریر کی ہو وغیرہ وغیرہ۔

اس کے بعد جو تنقیہہ یہاں اٹھانا مقصود ہے کہ کیا کسی نظریے پر اس نظریے کو پیش کرنے والے کی اجارہ داری ہوسکتی ہے؟ آپ یقیناً حیران ہونگے کہ یہ کیسا سوال ہے؟ بات ہی عجیب ہے۔ کیونکہ ایک مفکر کسی نظریےکو اسی لئے پیش کرتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ مثلاً آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ جمہوریت مغربی مفکرین کا نظریہ ہے اس لئے اس پر انکی اجارہ داری ہوگئی ہے۔ اور مشرق کا کوئی ملک اب اپنے ملک میں جمہوریت نافذنہیں کرسکتا۔ کیونکہ جمہوریت پر کسی ایک قوم کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس نظریے کو قبولیت عامہ ملنا ہی اسکی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔بلکہ الٹا نظریہ پیش کرنے والے تو اپنے نظریے کی ترویج اور اشاعت بطور بنیادی حق مانگتے ہیں۔ جسے آزادی اظہار رائے کہا جاتا ہے۔

اسی طرح آپ کسی سائنسی دریافت(ایجاد نہیں ) کو اپنے معاشی مفادات کے لئے چھپا تو سکتے ہیں اس پر اجارہ داری قائم نہیں کرسکتے۔ فرض کریں امریکہ نے کوئی سائنسی دریافت کرلی ہےجسکی بنیاد پر وہ دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ اب وہ اسے چھپا تو سکتا ہے مگر چونکہ یہ دریافت سائنس سے تعلق رکھتی ہے جو قانون قدرت ہے اس لئے اس پر اجارہ قائم نہیں کرسکتا۔ اگر وہ کسی اور ملک کے ہاتھ لگ جائے تو دوسرا ملک بھی اس دریافت سے فائدہ اٹھانے کا حق اسی طرح رکھتا ہے۔

اب کچھ بات ہوجائے ہمارے ملک پاکستان کی ۔ یہاں بھی جملہ حقوق محفوظ کروانے کے قوانین دیگر تمام دنیا کے ممالک کی طرح موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے۔ مگر ایک ایسی انفرادیت اس میدان میں پاکستان کو حاصل ہے جو دنیا بھر میں کسی اور ملک کو حاصل نہیں ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان کے آئین میں مذہب اسلام کے جملہ حقوق بھی محفوظ کروائے گئے ہیں۔ لیکن مجھ جیسے لاعلم اور جاہل کی سمجھ میں یہ حکمت آج تک نہیں آسکی کہ اگر اسلام کے جملہ حقوق محفوظ کروائے ہیں تو کیا نعوذ باللہ اسلام بھی کسی فرد یا ادارہ کی ایجاد یا تخلیق ہے؟ ان حقوق کو محفوظ کروانے کا مقصد کس کے معاشی مفادات کا تحفظ ہے؟ اور کیا اسلام کسی ایک گروہ یا ریاست کی ملکیت قرار دیا جاسکتا ہے؟ اب اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو آپ آئین پاکستان سے انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور اگر نعوذ باللہ ان سوالات کا جواب ہاں میں دے کر آئین پاکستان کا تحفظ کرتے ہیں تو آپ توہین اسلام کے مرتکب ہوتے ہیں ۔اور کیونکہ ریاست پاکستان کے پاس اسلام کے جملہ حقوق محفوظ ہیں اور جسکا عملی طور پر معنی یہ ہے کہ اسلام بحیثیت مذہب ریاست پاکستان کی ملکیت ہے ۔ اس لئے اسکی اجازت کے بغیر آپ اسلام کو بطور مذہب اپنا نہیں سکتے ۔ بصورت دیگر آپ مجرم ہیں اور قید و جرمانہ کے سزاوار ہیں۔ہاں ریاست اگر آپ کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیتی ہے تو آپ یہاں جمہوریت کا نام لے کر آمریت قائم کرسکتے ہیں۔ آپ یہاں مذہب کا نام لے کر فساد فی الارض بھی کرسکتے ہیں۔ آپ یہاں اسلام کے نام پر دہشت گردی بھی کرسکتے ہیں ۔ مگر کوئی آپ کو جعل ساز قرار دے کر عدالت میں نہیں جائے گا۔ ناطقہ سربہ گریبان کہ اسے کیا کہئے۔