وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں


فریقین وہی تھے۔ مقدمہ بھی ایک ہی تھا۔ دلائل بھی وہی تھے۔ فیصلہ مگر مختلف ہوا تھا۔ پہلے ایک فریق کے حق میں اور دوسری بار دوسرے فریق کے حق میں۔ جی ہاں پہلا فیصلہ ریاست نے 1953 میں کیا تھا ۔ اور دوسرا 1974 میں۔ ایک فریق کے دلائل تھے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ دوسرا فریق پہلے فریق کو غیرمسلم قرار دلوانا چاہتا تھا۔ اسکی وجوہات مذہبی اختلافات کے علاوہ یہ بھی تھیں کہ فساد کی وجوہ کو ختم کرنے کےلئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ وگرنہ یہ کشت و خون کا باعث ہوگا۔ امن و امان خراب ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ جمہور مسلمانوں کا فیصلہ ہے۔ مسلمان کی تعریف کا معاملہ اس وقت بھی اٹھایا گیا تھا۔ مگر ریاست نے موخر الذکر فریق کے دلائل رد کردیے۔ اور کوئی ایسا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا جسکے نتیجے میں کسی ایک طبقے کی مذہبی آزادیوں پر قدغن ہو۔ کسی ایک طبقے کو ، خواہ وہ کس قدر قلیل ہی کیوں نہ ہو، اسکے اسکے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا گیا۔ اور دوسرا فریق خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، اسے اپنی طاقت کے بل بوتے پر ریاست کو لتاڑنے کا اجازت نامہ نہیں دیاگیا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ کوئی آسمان نہیں ٹوٹا۔جس کشت و خون اور فساد سے ایک فریق ڈرا دھمکا رہا تھا۔ وہ سب چائے کی پیالی میں طوفان سے آگے نہ بڑھا۔ ملک میں امن و امان قائم ہوگیا۔انصاف بھی ملا کرتا تھا۔ کوئی فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوئے۔ فرقہ واریت کا عفریت پنجے نہ گاڑ سکا۔ مذہبی انتہاپسندی پنپ نہ سکی۔ برداشت اور رواداری ملک میں عام تھی۔ اقلیت اکثریت کا کوئی جھگڑ ا نہیں تھا۔ نہ توہین رسالت ہوتی تھی اور نہ مذہب و مسلک کے نام پر گلے کاٹے جاتے تھے۔ محبتیں عام تھیں ۔ کرپشن کی اصطلاح ہمارے معاشرے کا محاورہ نہ بنی تھی۔ پاکستان کو ایک قابل وزیر خزانہ ملا جسے اس بنیاد پر عہدے سے محروم نہ کیا گیا کہ اسکا مسلک احمدی تھا۔ اسی وزیر کے پنچ سالہ منصوبوں کی آج تک شہرت ہے او ر ان سے دیگر ملکوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔ وہ وزیر خزانہ بعدمیں عالمی بینک کا ڈائریکٹر بھی رہا۔ پھر اسکے بعد 1965 کی جنگ بھی آئی۔ اس وقت احمدیوں کو جرنیل کے عہدے تک پہنچنے کی بھی آزادی تھی۔ ان احمدی جنرلوں نے دشمن کے دانت کھٹے کردیے۔ کبھی چونڈہ کے محاذ پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی میں فتح حاصل کی تو کبھی کشمیر کے اندر گھس کے دشمن کو مارا۔ اور پاکستان کی تاریخ میں محاذ جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والا پہلا جنرل بھی احمدی ہی ٹھہرا۔ عدلیہ میں چیف جسٹس کے مقام تک اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ایک مسیحی اے آر کارنیلئس پہنچا جسکے انصاف کی آج بھی دھوم ہے۔ کیونکہ 1953میں مذہب کے نام پر میرٹ کو قتل کردینے ، فرقہ واریت ، انتہا پسندی اور ناانصافی کے دروازے ریاست بند کرچکی تھی۔


اب ذرا دوسری طرف آئیں۔ وہی معاملہ جب 1974میں سامنے آیا تو حالات بدل چکے تھے۔ ریاست بدل چکی تھی۔ ایک جمہوریت کے نام پر آئے ‘‘قائد عوام’’ نے ایک اقلیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ اور انکے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے دوسرے فریق کو مقننہ کے ذریعے آئینی طور پر غیرمسلم قرار دے دیا۔ کہا گیا کہ 90 سالہ مسئلہ حل کردیا گیا۔ اسے امت مسلمہ کا اجماع قرار دیا گیا۔ آج بھی کئی دانشور کہلانے والے اسے ‘طے شدہ’ معاملہ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ مگر اسکا نتیجہ کیا ہوا۔ اسکے لئے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر یوں ہوا کہ اس مسئلے کو حل کردیا گیا۔ مگر کیا یہ مسئلہ حل ہوا یا ریاست کے لئے ام المسائل بن گیا؟ کیا یہ آج تک بارود کا ڈھیرنہیں ہے؟ جس پر حمزہ علی عباسی کے ایک سوال کی چنگاری اسے آگ لگانے کا باعث بنا کر دکھائی جارہی ہے۔ کیا اگر یہ طے شدہ مسئلہ ہے تو پیمرا کو ٹی وی پروگراموں پر پابندی کیوں لگانی پڑتی ہے؟ حمزہ علی عباسی کے ایک سوال سے مذہبی جبہ پوشوں کے حواس کیوں باختہ ہوجاتے ہیں؟ عبدالستار ایدھی کے جماعت احمدیہ کا ایوارڈ وصول کرنے سے ان مذہبی راہنماؤں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھنے لگتے ہیں؟ فرقہ واریت کہاں سے آئی؟ تکفیر سازی کی صنعت کس ملک سے درآمد کی گئی؟ قتل و غارت اور دہشت گردی کس آسمان سے نازل ہوئی؟ عدم برداشت اور عقیدے اور مذہب کے نام پر گلے کاٹنے اور اسکی حوصلہ افزائی کیا زمین سے اگ پڑی؟ انصاف کا خون اور کرپشن بھی شاید آسمان سے ہی اتری ہو۔ کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ خون ریزی سے بچانے کےلئے اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے کیا گیا۔ مگر کیا خون ریزی نہیں ہوئی۔ ہاں پہلے تو نہیں تھی بعد میں شاید لاکھوں نہیں تو ہزاروں افراد جان سے گئے۔ امن و امان رہا؟ اسکے لئے مجھے کچھ کہنے یا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ چلیں آپ نے اپنے تئیں یہ امر طے کر ہی دیا مگر پھر بھی اب احمدیوں کو تو چھوڑیے جن میں سے محض چند سو سے ہی آپ نے اس فیصلے کے بعد بھی جینے کا حق چھین لیا۔ اب تو مسئلہ اس سے بھی کہیں آگے بڑھ گیا ہے


اب سوال یہ ہے کہ ایک ہی قضیہ ، وہی فریقین ، لیکن دو مختلف وقتوں میں دو فیصلے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ باقی باتیں جتنی مرضی کرلیں کہ کیا مقننہ کو احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کااختیار ہے یا نہیں۔ ذرا وقت کا فیصلہ بھی دیکھ لیجئے۔


بھی رحمتیں تھی نازل اس خطہ زمیں پر
وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

Obaidullah Khan

Obaidullah Khan

Obaidullah Khan is a law graduate working in a private institute. Khan occasionally writes on different social issues.
Obaidullah Khan

Comments

comments

Leave a Reply

5 thoughts on “وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

  1. The Ahmadiyya community has been the
    recipient of Divine succour without doubt at all times.Historical evidences bear witness to this fact. It is high time people of Pakistan start acknowledging this.

    Reply
  2. This is a nice well argued article. It shows how the state in 1953 stood for the fundamental rights of Ahmadiyya minority community and peace was restored in the country without much fuss. But the state in 1974 acted against law and against UN Human Rights Charter and yielded to extremist pressure and religiously excommunicated Ahmadi Muslims. The result is that hell was let loose for the country and it plunged into darkness of terrorism and bigotry.
    I have to suggest a little correction. M.M.Ahmad Sahib was not Finance Minister. He was Federal Finance Secretary and Chairman, Planning Commission at different times.
    Nevertheless the article provides a very apt analysis.

    Reply
    1. سچ کروا ہوتا ہے معلوم تھا لیکن سندھ کی چھوتی مرچی کے انداز میں چبھتا بھی آج دیکھا ہے اب کیوں چبھا آپ بہتر جانتے ہوں گے ……کسی بھی چیز کا غلط استمال نقصان دیتا ہے …احتیاط کیا کیجئے