مذہبی اور تنگ نظر معاشرہ ، تنگ نظر ریاست اور سوشل میڈیا

مذہبی اور تنگ نظر معاشرےیا تنگ نظر ریاست میں اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو چل رہاہے اسے چلنے دیں
اس پر بغیر چون و چرا عمل کرتے رہیں
اگر کوئی کسی جاری روایت کو چیلنج کردے اور اس کیخلاف منطقی انداز میں بات کرے تو پہلا ردِ عمل اس شخص کو راہ راست سے ہٹا ہوا سمجھنے پر مبنی ہوتاہے اور اکثر لوگ اس کی منطق یا دلیل کو دیکھنے کیبجائے اس کے روایت سے ہٹے رویے کو دیکھتےہیں اور دیکھا یہ

جاتاہے کہ اس کی کوئی بات کسی مذہبی عالم ، یا معاشرے میں جاری روایت کے خلاف تو نہیں ؟
جبکہ سوشل میڈیائ معاشرے میں اکثر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی بات عقل و منطق کے خلاف ہے؟

سوشل میڈیا پر موجود مذہبی لوگ بھی اسی پیمانے پر دوسروں کو پرکھتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو اپنے خلاف کسی کی تنقید پر بعض اوقات یہ اصول بھول جاتےہیں اور اپنی غیر منطقی اور غیر معقول بات کا غیر منطقی اور غیر معقول انداز میں دفاع شروع کردیتے ہیں
بعض اوقات انہی مذہبی اور تنگ نظر معاشروں کی طرف سے ایک وقت میں ایک غیر معقول اور ناقابل عمل بات کی ترویج کی جاتی ہے اور اس کیخلاف کسی اپنے یا غیر کی تنقید بہت بری محسوس کی جاتی ہے اور دوسرے وقت میں اسی بات سے وہ لوگ خود ہی پیچھے ہٹ جاتےہیں۔

ایسا ہی کچھ معاملہ سوشل میڈیا کا ہے
جب سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بولنا شروع ہوا تو کچھ لوگوں نے اس کے استعمال سے پرہیز کرنے کی تحریک کی ، کچھ نے سوشل میڈیا کے ایک حصے کو بُرا کہا تو کچھ نے دوسرے حصے کو۔
کسی نے فیس بک پر اکاؤنٹ ختم کرنے کو کہا تو کسی نے یُو ٹیوب بند کردی
اور پھر فیس بک کےاکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے اور یُو ٹیوب کی بندش کی پالیسی کو ختم کرنا پڑا
اور انہی معاشروں کے لوگوں کا فیس بک اور یوٹیوب کے بغیر اپنی بات دوسروں تک پہنچانا مشکل ہوگیا
آخر یہ لوگ سوشل میڈیا کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟

اس کی اور کئی وجوہات کےعلاوہ ایک بنیادی وجہ شخصی آزادی اور آزادی اظہار ہے
جن معاشروں میں سب کو ایک خاص نیرییٹو پر چلانا مقصود ہو اور اس کیخلاف کسی معاشرے کے فرد کی آزادانہ اظہار رائے کا رواج نہ ہو تو وہاں ہر شخص کی سوشل میڈیا پر شخصی آزادی اور اظہار رائے ان معاشروں کیلئے ایک چیلنج بن کر ابھرتی ہے۔
یہ بات صرف مذہبی لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تنگ نظر ریاستیں بھی یہی رویہ رکھتی ہیں۔

ایک وہ وقت تھا کہ جب سوشل میڈیا گلی محلے کا چبوترہ ،بیٹھک یا ہوٹل ہوتے تھے جہاں لوگ محفل جماتے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اور ہر شخص کو دوسرے شخص کا پتہ ہوتا تھا کہ وہ کون ہے اور اس کے کیا حالات ہیں لہذا ہر شخص بتیس دانتوں میں زبان رکھ کر نہایت احتیاط سے اپنی سوچ کا اظہار کرتاتھا کہ کہیں تنگ نظر معاشرے میں اس کی بات معاشرے کے کسی ایسے رواج اور روایت کیخلاف نہ ہوجائے کہ کل اس کا اس معاشرے میں رہنا مشکل ہوجائےگا۔

اور چاہے وہ بات نہایت معقول اور منطقی ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ بات اگر اس کے اپنے ہی مکتبہ فکر یا کسی اور کے مکتبہ فکر کی جاری سوچ کیخلاف ہو تو اس کے اپنے مکتبہ فکر یا دوسرے مکتبہء فکر کے لوگ اس کیخلاف مختلف ردِ عمل ظاہر کرسکتے ہیں جو آپ سے تعلقات میں تبدیلی،دوستی یا بات چیت ختم ہونے سے لیکر مار کٹائی اور محلہ بدری تک منتج ہوسکتی ہے۔

اب یہ اظہار خیال سوشل میڈیا پر ہوتاہے اور سوشل میڈیا پر بھی جو لوگ ایکدوسرے کو جانتے ہیں وہ اسی ردعمل کا سامنا کرتے ہیں
اور جن کے بارے میں نہ پتہ ہو کہ وہ کون ہیں ان کے بارے میں کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کون ہیں اور یہ کھوج ایکدوسرے سے ان کے بارے میں پتہ کرنے سے لیکر ان کے کمپیوٹر کی انٹرنیٹ سے شناخت کرکے ان کے مقام کی کھوج لگانے تک منتج ہوتی ہے۔

اور پھر ان کیخلاف پراپیگنڈےسےلیکر ان کی پکڑ دھکڑ تک کا عمل دیکھنےکو ملتاہے
اس سارے عمل میں کہانی ایک ہی ہے کہ بجائے اس شخص کی بات کو منطقی یا معقولی انداز سے رد کرنے کیبجائے اس کی ذات کیخلاف ردعمل دیکھنے کو ملتاہے۔

کیاکوئی یہ سوچ سکتاہے کہ سوشل میڈیا پرمکمل پابندی لگانے سے کوئی معاشرہ ان سب مسائل سے بچ جائے گا
آج اکثر مذہبی تنظیمیں پوری دنیا میں اسی سوشل میڈیا کے زریعے نہ صرف اپنے مذہبی عقائد پھیلا رہی ہیں بلکہ اپنے خلاف ہونے والی نا انصافی پر آواز بھی اسی سوشل میڈیا پر اٹھائی جاتی ہے

ٹرمپ کے مسلمانوں کے متعلق رویہ کا جواب دینےکیلئےمسلمانوں نے اسی سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا اور اپنے خلاف غیر مسلم دنیا میں ہونیوالے والے پراپیگنڈا کو نا معقول اور غیر منطقی قرار دیا۔

اب جبکہ ایک مکتبہ فکر کے لوگ اپنے خلاف ہونے والی بات کو اسی سوشل میڈیا پر غیر معقول ثابت کرتے ہیں اسی طرح انہیں بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی غیر معقول اور ناانصافی کی بات کو اسی سوشل میڈیا کے لوگ بھی غیر معقول قرار دیں گے

اور انہیں اپنے موقف کو معقول رکھنا پڑے گا
یہی بات ہر ریاست کو بھی مدنظر رکھنا ہوگی۔

اپنے ہاں سوشل میڈیا بند کرکے دنیا کی اظہار رائے کی بلی سے بچنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کبوتر کا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرکے سمجھنا کہ کچھ نہیں ہوگا۔

آپ کے سوشل میڈیا پر اپنے لوگوں کو صرف اپنے مطلب کی بات کرنے اور پڑھنے کیبجائے معقول بات کرنا اور معقول بات کی تائید کرنا سکھانا پڑےگا ورنہ یہی سوشل میڈیا کی معقول بلی آپ کی معقول موقف سے آنکھیں بند دیکھ کر آپ کا شکار کر جائیگی ۔
سوشل میڈیا یہ نہیں دیکھے گا کہ کس بزرگ یا بڑے شخص یا سربراہ مملکت یا وزیر نے فلاں بات کہی ہے بلکہ یہ دیکھے گا کہ کیا بات کہی گئی ہے اور کیا وہ معقول یا انصاف پر مبنی ہے ؟

[email protected]
@     Facebook