کیا ہمیں واقعی آرمی پبلک سکول پشاور پہ حملہ کی پرواہ ہے؟

کیا ہمیں واقعی آرمی پبلک سکول پشاور پہ حملہ کی پرواہ ہے؟


آج 16 دسمبر کو پوری قوم یہ سوچنے پر مجبورہو گئی ہے کہ کیا قصورتھا ان بچوں کا ؟ کیا یہی کے وہ پاکستانی تھے، کیا پاکستانی ہونا اتنا بڑا جرم ہے ؟ پاکستانی ہونا اتنا بڑا جرم نہیں البتہ پاکستان میں رہنا جرم عظیم ہےکیوںکہ یہی پاکستانی جب یورپ اورامریکہ میں آ کر بستے ہیں تو ان کی جان،مال،اولاد ہر چیز محفوظ ہو جاتی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اس چیز کا احساس ہی نہیں ہے کہ قوم کس درد سے گزر رہی ہے، نواز شریف ہے تو وہ چاہتا ہے جیسے تیسے میری وزارت عظمہ بچی رہے جبکہ عمران خان صاحب پر وزیراعظم بننے کا بھوت سوار ہے، زرداری صاحب کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ کسی طرح اپنے بیٹے بلاول کو سیاست میں کامیاب کروانے کے درپے ہیں،اورالطاف حسین صاحب کے بارے میں اب کیا کہوں، کراچی کا جو حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ ان سب سے نا اْمید ہو کر جب قوم آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے تو وہاں بہت سی کمزوریاں نظر آنے لگتی ہیں-
نہ تو راحیل شریف صاحب کو ماڈل ٹاوّن کے 14 لوگوں کے قاتل نظر آتے ہیں اور نہ ہی طالبان کا سرغنہ لال مسجد والا مولوی عبدالعزیز نظر آتا ہے، جو پاکستان کے دل اسلام آباد میں بیٹھ کر دھشتگردی کو فروغ دے رہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ قوم کسے منصف کرے اور کسے وکیل۔
اب واپس آۓ ذرا اے۔پی۔ایس پشاور کی طرف، مجھے دشمن کے بچوں کو پڑہانا ہے۔ آئ ایس پی آرنے پشاور اے پی ایس کے لۓ یہ نغمہ متعارف کرایا، یہ نغمہ سن کر مجھے اس بات کی نہایت خوشی ہوئ کے 144 بچوں کی شہادت نے ہمیں یہ تو سکھادیا کہ ہمارا صحیح راستہ کیا ہے۔ یقینً ہمیں دشمن کا مقابلہ قلم سے کرنا ہے لیکن اس دفعہ میں اپنے فوجی بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لۓ اس مرتبہ کوئی اچھا ہی سبق پڑھائیے گا، وہ سبق نہ پڑھانا جو جنرل ضیاء نے پڑھایا تھا جس کے نتیجہ میں ہمیں 144 بچوں کی قربانی دینا پڑی۔


انتہا پسندی اور دہشت گردی ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جس کو ہمیں جڑ سےاکھاڑ پھینکنا ہے۔اس مقصد کے لئے ہمیں انفرادی طور کی بجائے اجتماعی کوشش کرنی پڑےگی۔ یہ صرف حکومتِ وقت یا عسکری قیادت کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کو چاہئے کہ اگرہمیں اپنے بچوں کامستقبل بچانا ہے تواپنے اردگران لوگوں کو بے نقاب کرنا ہوگاجو معاشرے میں نفرتیں پھیلارہے ہیں۔ ہمیں اس وقت تک مل کر کوشش کرنا ہوگی جب تک ہمارا معاشرا ممتاز قادری اور مولوی عبدالعزیز جیسے لوگوں سے پاک نہ ہو جائے۔


ہماری قوم کی یہ خصوصیت ہے کہ ہم بڑے سےبڑے سانحہ کو کچھ ہی دنوں میں بھلا دیتے ہیں۔ خدرا اس مرتبہ آپ سب سے التماس ہے کہ ان بچوں کی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دی جئے اورآپس کے تمام تفرقے ختم ےکرکے ظلم کےخلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

3 thoughts on “کیا ہمیں واقعی آرمی پبلک سکول پشاور پہ حملہ کی پرواہ ہے؟

  1. A student from APS Peshawar said these illiterate terrorists neither study themselves nor let us study or education.It is an idiom in urdu Doodh ka jula chaj phoonk phoonk ker peeta hay.It is hard to trust anyone when one gets hurt from someone ,never thought off.Now people are skeptical about Political leaders,religious leaders,or sometimes even from Army.Everyone is not the same, so hope for the best,it sustains the world. Allah is not dependent on them!!!The anguish and pain,anxiety will be rewarded as He has Promised.

    Reply
  2. Just one thing for correction….. Karachi is in a bad shape not because of Altaf Hussain but for Pakistani establishment (mainly Army) who have been treating Karachi like East Pakistan…… You can not build a just society when you do not give equal right to people ….

    Reply