حمزہ حمزہ کھیلتے اخبارات اور سوشل میڈیا کو اب کچھ دن ہونے کو آئے ہیں مگر بہت سی کہنے کی باتیں ابھی باقی ہیں۔ ہڑبونگ مچنے پہ تالیاں پیٹتے تماشائیوں اور خیالی غیرت پہ جھاگ اڑاتے سودائیوں سے گذارش ہےکہ۔
۔علامہ اقبال کے مطابق


نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی۔
اپنےسینےمیں اسےاور ذرا تھام ابھی۔


یہ مد نظر رکھیں کہ حمزہ عباسی کے سماجی و سیاسی تناظر میں اٹھائے گئے سوال سی احمدیوں کو پاکستانی علماء اور حکومت کی جاری کردہ سند اسلام نہیں ملنی اور نہ احمدی اس کا تقاضا کرتے ہیں۔ قرون وسطی کے مظالم اور تاریکیوں کو شرماتا ہوا اسلام جس کی بنیاد تعصب اور تنگ نظری پہ اٹھائی گئی ہے اس کو لے کے احمدی یا عصر حاضر کا کوئی بھی مہذب انسان کیا کرے گا۔ عیسائیت کی تیرھویں اور چودھویں صدی کے اہل چرچ اپنی دکانوں میں جو مذہب بیچ رہے تھے وہی آج مسلم ملائیت چھابڑیاں لگائے بیچتی پھر رہی ہے۔ اس کا نہ تب اہل مغرب میں کوئی معقول خریدار ہوا نہ آج کے مشرق میں اس کی کھپت ہو پائے گی۔


حمزہ علی عباسی اور ان جیسے دیگر پاکستانیوں کو زندہ رہنے کے لئے غیر جانبدار اور غیر متعصب ملک، حکومت اور معاشرہ درکار ہے جو اگر آواز پہ آواز لگتی رہی تو آخر کار مل جائے گا۔۔۔۔۔لیکن یہ کل کی یا قریب کی منزل نہیں ہے۔ اور اس کے لئے احمدیت سے باہر کے شرفاء کو ” کنجر کنجر اور بے غیرت بے غیرت”جیسے واہیات القاب سن کر گزرنا ہو گا۔۔۔۔اور احمدیوں کو تو کافر زندیق سنتے زمانے گذر گئے!!


بقول غالب۔۔
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی۔
اب کسی بات پر نہیں آتی۔


گذشتہ کچھ عرصے سے راقم نے دریا میں کھڑے ہو کر بارش کا خیال کرنا بند کر دیا ہے۔ مراد یہ کہ ایڈیٹر کے تیور اور اخبار کی پالیسی کو سامنے رکھ کر نہیں لکھتا۔ حقائق آپ کی نذر ہیں اگر آپکے حلق سے اتر گئے تو سو بسم اللہ نہ اتفاق ہو تو خیر۔۔۔مجھے آپکی ساری باتوں سے کب اتفاق ہے۔ بس یہ کہ تہذیب کا لحاظ رہے گا کہ معاشرتی مکالمے کا یہ جزو اعظم ہے۔ اس لئے اب آپ کو کہیں کہیں مرزا صاحب کی تحریروں کے حوالے ملیں گے کہ احمدیوں کی جڑھ تو وہی ہے۔ آپ قارئین، نجم سیٹھی، مبشر لقمان، آپکے علماء کرام یا پھر کسی بھی دور کا حمزہ علی عباسی اتنا خوفزدہ کیوں ہے کہ اصل ماخذ سے ڈرتا ہی؟ وہی ن۔م۔راشد والا سوال کہ۔
اگہی سے ڈرتے ہو۔۔۔۔؟؟


اب گذارش یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب مواہب الرحمان- روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 315 ترجمہ عربی عبارت میں لکھتے ہیں کہ۔
“ہماری جماعت میں وہی داخل ہو کا جو دین اسلام میں داخل ہو اور کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہواور اللہ اور اس کے رسول اور حشر نشر اور جنت دوزخ پر ایمان رکھےاور یہ وعدہ اور اقرار کرے کہ وہ کوئی اور دین نہیں چاہتا اور اس دین پر مرے جو دین فطرت ہے اور اللہ کی کتاب کو پکڑے رکھےاور سنت اور قرآن اور اجماع صحابہ سے جو ثابت ہو اس پر عمل کرے اور جس نے ان تین چیزوں کو چھوڑا اس نے گویا اپنے نفس کو آگ میں چھوڑا۔”
اللہ کے بندو اس کے بعد مزید کیا چاہئے مسلمان ہونے کے لئے؟
پاکستان کی پارلیمنٹ کا سرٹیفکیٹ اور باہم مسلسل دست و گریبان شیرانیوں اور اشرفیوں کے تائیدی فتوے؟ حلالہ باز اور حجروں میں ریپ کرنے والے بد کرداروں کی تائید سے جو مسلمانی ملے وہ مجھے یا کسی بھی احمدی کا خواب نہیں ہے۔


اس لئے حمزہ عباسی کی جان کو نہ آئیں۔ وہ آپ کا منکر ہونے کی کبھی جسارت نہیں کرے گا۔ وہ تو انسانی حقوق کی زرہ بکتر پہن کے اترا ہے۔ اور آپ کی جہالتوں پہ سوال اٹھا رہا ہے۔ احمدیت سے اس کو کیا لینا دینا!
اور سوال اب اٹھنے ہیں۔ پردہ دری ہونی ہے۔ نقاب اترنے ہیں اور منافقت ننگی ہونے والی ہے۔ مجھے اس کا اس لئے یقین ہے کہ اس کے بغیر ملک اور معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور پاکستان خوش قسمتی سے قائم رہنے کے لئے بنا تھا اور احمدی جو آج معاشرتی شودر سمجھے جا رہے ہیں ان کا پاکستان بنانے میں معین اور اہم کردار تھا اور استحکام پاکستان میں اس سے بھی زیادہکردار ہے۔
سامنے آ کر بات کریں جو جماعت اسلامی، مفتی محمود اور عطاللہ شاہ بخاری کے پرودگان ہیں کہ آپ کے آباء کا بانئ پاکستان اور پاکستان کے ساتھ کیا سلوک تھااور کیا طرز گفتار تھی؟
اور مسلح افوج کے جوانوں کو شہید کہنے پہ جن کو لقوہ اور فالج ہو جاتا ہے وہ احمدیوں کو غدار کہنے کی جرات اس لئے کر لیتے ہیں کہ بے حیاء ہیں۔


جہاں تک آپ کے جانیں لڑا دینے کے دعووں اور دھمکیوں کا تعلق ہے تو اس کی شہہ آپ کو کمزور، کم نظر، بد دیانت اور زنخہ مزاج حکمرانوں نے دے رکھی ہے۔ جسٹس کیانی اور جسٹس منیر نے جو 1953 فسادات کی انکوائری رپورٹ میں کہا تھا کہ ایک تھانیدار اس شورش کو دفع کرنے کے لئے کافی تھا اگر دولتانہ حکومت کی بد نیتی کام نہ دکھاتی تو۔۔۔۔وہ بات تو پرانی ہو گئ لیکن وہ ایس- پی ابھی زندہ ہے جس نے مجھ سے کہا تھا کی لال مسجد میری پولیس ایک دن میں خالی کروا سکتی ہے اگر مجھے پورا اختیار ہو تو۔ اس لئے یہ جانیں لڑانے والی باتیں آپ نہ کیا کریں۔۔۔۔آپ کے دل جانتے ہیں کہ آپ کی بنیاد جھوٹ اور ظلم پر ہے اس لئے عبدالستار نیازی کلین شیو کر کے بھاگا اور عبد العزیز برقعہ پہن کے۔ آپ کو مرنا نہیں آتا۔ آپ مار سکتے ہیں اور معصوم جہلاء کو مروا سکتے۔
خود مرنے کے لئے سقراط جیسی ذہنی شفافیت درکار ہے جو ملانوں کے نصیب میں ہوتی تو پاکستان اس حال کو پہنچتا؟


ایک بات اور۔
آپ کو صبر اور تحمل اور بردباری اور توکل نصیب نہیں۔ آپ رمضان کے مبارک مہینے سے گذر رہے ہیں دعا کیوں نہیں کرتے مغلضات بکنے کی بجائے۔ مولوی حمداللہ نے جو کچھ ماروی سرمد کو کہا مجھے تو اس کو دوبارہ لکھتے ہوئے گھن آرہی ہے۔ اس کے بعد ان جیسے بد زبانوں اور بد کرداروں سے مسلمان ہونے کی سند لینے جانے والے پر ۔۔۔انا للہ ۔۔۔ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ باقی حمزہ عباسی سے احمدیوں کو مسلمانی کبھی نہیں ملنے والی البتہ آپ کی سوسائیٹی کو سلامتی اور آپ کے ارباب اختیار کو قدرے ہمت شائید مل جائے اور وہ للکار کے مولوی کو کہہ سکیں کہ بس بھئ۔۔بس۔ بہت ہو گئی۔ اپنی حد میں رہو۔ پاکستان کو تمہارے فتووں سے پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ویسے کبھی غور تو کریں کہ کیا کار ریاست’ اس فراست، قابلیت اور کردار کے حامل علماء کے ہاتھ دیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر احمدیوں ۔۔۔۔۔اور اگلے قدم پر شیعوں اور پھر آغا خانیوں اور پھر سیکولر سوچ کے حامل پاکستانیوں کی جان مال اور عزت ان کے ہاتھ میں دے کر ریاست، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں نے کون سی سیاسی و انتظامی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے؟


گذشتہ قسط میں میں نے عرض کیا تھا کہ حمزہ علی عباسی ایسا کٹا کھول بیٹھے ہیں جو ان سے باندھا نہیں جانا اور آخر پہ وہی نہ ہو کہ کمزور اور غریب جابر اور زور آور کے سامنے اپنے ہی بچے کو مارنا شروع ہو جاتا ہے تا کہ اس کے غضب اور مغلظات سے بچ سکے۔ وہی مبشر لقمان والا حال نہ ہو کہ ایک پروگرام احمدیوں پہ کر کے پھر تین پروگراموں میں احمدیوں کو یکطرفہ گالیاں دلوا کر موصوف کی جان اور ایمان بچ سکے۔ اور دوسری یہ بات کہ احمدیوں پہ بات کرنے کو اگر بہت دل چاہے تو کچھ ریسرچ اور متعلقہ مواد کا مطالعہ وغیرہ کر لیا کریں۔ معلومات اور علم بجائے خود انسان میں دلیری اور قوت پیدا کرتی ہیں۔


حمزہ عباسی کے پروگرام تو پتہ نہیں اب کیا رخ اختیار کریں لیکن سنجیدہ اور غیر جانبدار قارئین کے لئے عاجز کا یہ سلسلئہ مضامین ابھی کچھ دیر تک چلے گا۔ آپ کی آراء اور اختلاف سر آنکھوں پر۔


ااطہر نفیس کا ہی ایک اور شعر ۔۔۔
خاک اڑاتی نہ تھی اس قدر تو ہوا اس کو کیا ہو گیا۔
دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شھر والو سنو۔۔!